نظم : تماشائے حیات کے اختتام سے پہلے ، شاعرہ : سیندرہ پاؤلر (امریکا)
نظم : تماشائے حیات کے اختتام سے پہلے
شاعرہ : سیندرہ پاؤلر (امریکا)
مترجم : رومانیہ نور (ملتان)
الفاظ شفق کی بودی رنگ
آمیزی کرتے ہیں
میں انھیں شاعر کی
دسترس سے باہر خیال کرتی ہوں ۔
میری کھڑکی کے شیشے پر
مدھم روشنی جھلملاتی ہے
کچھ آنسو غم کی بارش کی
طرح میرے من میں گرتے ہیں
ہمارا وقت غروب آفتاب
تک مختصر کر دیا گیا ہے
باوجود اس کے طوفان
آشنا اپنی راہ خود نکالتا ہے
رنج و ملال اپنے پیمانۂ
حد میں رہتے ہیں
اور فراق اک تحفہ ہے جو
ہم خود کو دیتے ہیں
یہ لمحہ اتنا ہی قلیل
اور خوش نما ہے
جیسے سرما کے قدیم
گٹھیلے درخت
دوست! مجھے بھروسہ ہے
کہ تم میری سرگوشیوں کا ترجمہ کرو گے
اور انھیں میری جانب
روانہ کرو گے۔
اس سے پہلے کہ تماشائے
حیات تمام ہو جائے۔
Original Text:
Before The Music Ends
by Sandra Fowler
Words paint a fragile
picture of the dusk.
I think them to a poet
far away.
The light shines dim
upon my windowpane.
A few tears fall like
blue rain in the mind.
Our time has been
short listed by sunset,
No matter that the
weather has its way,
The stresses live
within their measurement,
And distance is a gift
we give ourselves.
This moment is
designed to be as spare
And elegant as
winter's old, gnarled trees.
I trust you to
translate my whispers, Friend
And send them back
before the music ends.
www.facebook.com/groups/AAKUT/

Comments
Post a Comment