نظم : برسات کا دن ، شاعر: ہینری واڈزورتھ لانگ فیلو (امریکہ)
نظم : برسات کا دن
شاعر: ہینری واڈزورتھ
لانگ فیلو (امریکہ)
مترجم: رومانیہ نور
(ملتان)
دن سرد، تاریک اور بے
کیف ہے
بارش برستی ہے اور ہوا
کبھی تھکن زدہ نہیں ہوتی۔
بیل ابھی تک خستہ دیوار
سے لپٹی ہے
مگر ہر جھونکے کے ساتھ
مردہ پتے جھڑ جاتے ہیں
دن تاریک اور بے کیف ہے
میری زندگی سرد مہر اور
تیرہ و اداس ہے
بارش برستی ہے اور ہوا
کبھی تھکن زدہ نہیں ہوتی
میری سوچیں اب بھی ماضی
برباد سے چپکی ہیں
مگر شباب کی ان گنت
امیدیں نذرِ طوفان ہوئی ہیں
اور دن تاریک اور بے
کیف ہیں
چپ کر دلِ ناشاد! اور
ترک ِ رنج و غم کر
پسِ ابر سورج چمک رہا
ہے ابھی
تیری قسمت بھی وہی جو
قسمت ہے سبھی کی
ہر ایک کی زندگی میں
بارش کا آنا ضروری ہے
کچھ ایّام میں تاریکی
اور بے کیفی کا چھانا ضروری ہے
Original Text:
The Rainy Day
By Henry
Wadsworth Longfellow
The day is cold, and
dark, and dreary;
It rains, and the wind
is never weary;
The vine still clings
to the mouldering wall,
But at every gust the
dead leaves fall,
And the day is dark
and dreary.
My life is cold, and dark, and dreary;
It rains, and the wind
is never weary;
My thoughts still
cling to the mouldering Past,
But the hopes of youth
fall thick in the blast,
And the days are dark
and dreary.
Be still, sad heart! and cease repining;
Behind the clouds is
the sun still shining;
Thy fate is the common
fate of all,
Into each life some
rain must fall,
Some days must be dark
and dreary.
www.facebook.com/groups/AAKUT/

Comments
Post a Comment