نظم : کاش میرے پاس کڑھی ہوئی، سونے چاندی سے مرصع ایک خِلعَتِ آسمانی ہوتی ، شاعر : ولیم بٹلر ییٹس (برطانیہ)

 نظم : کاش میرے پاس کڑھی ہوئی، سونے چاندی سے مرصع ایک خِلعَتِ آسمانی ہوتی

شاعر : ولیم بٹلر ییٹس (برطانیہ)

اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)

 

 


کاش میرے پاس کڑھی ہوئی، سونے چاندی سے مرصع ایک خِلعَتِ آسمانی ہوتی۔

جس کی مدہم نیلاہٹ میں شب کی سیاہی، نورِ سَحر اور شفق کے رنگ گُھلے ہوتے۔

میں وہ چادرِ اَفلاک تمہارے قدموں تلے بچھا دیتا۔

لیکن مجھ تہی دست کے پاس فقط میرے خواب ہیں۔

میں نے انھیں تمہارے قدموں تلے بچھا دیا ہے۔

رسانیت سے قدم دھرنا کیونکہ تم میرے خوابوں ( کی سر زمین) پر محوِ خرام ہو۔


 

''Aedh Wishes for the Cloths of Heaven''

By W. B. Yeats, 1865 - 1939



Had I the heavens' embroidered cloths,

Enwrought with golden and silver light,

The blue and the dim and the dark cloths

Of night and light and the half light,

I would spread the cloths under your feet:

But I, being poor, have only my dreams;

I have spread my dreams under your feet;

Tread softly because you tread on my dreams

 

 

ترجمہ نگار سے رابطہ کے لیے:

romanianoor133@gmail.com

 

 

www.facebook.com/groups/AAKUT/

 

 

 

 

Comments