نظم : جغرافیے کا سبق ، شاعر: برائن پیٹن (برطانیہ)
نظم: جغرافیے کا سبق
شاعر : برائن پیٹن
(برطانیہ)
اردو ترجمہ : رومانیہ
نور (ملتان)
ہمارے استاد نے اک روز
ہمیں بتلایا کہ وہ اسکول سے اذنِ رخصت لے گا۔
اور ایک گرم نیلگوں
سمندر کے پار سفر پر گامزن ہوگا۔
ان جگہوں کی جانب جن سے
وہ صرف نقشوں کی حد تک واقف تھا،
اور اسے ساری عمر اسی
بات کی تمنا رہی تھی۔
وہ جس گھر میں مقیم تھا
وہ تنگ اور تاریک تھا۔
لیکن تصور کی آنکھ سے
وہ دیکھ سکتا تھا۔
دلفریب خوشبو والی
چمبیلی دیواروں سے لپٹی ہے،
اور نارنجی کے درخت پر
سبز پتے دہک رہے ہیں۔
اس نے ان سرزمینوں کا
ذکر کیا جن کی سیر کی چاہت تھی،
جہاں کبھی یخ بستگی تھی
نہ اکتاہٹ تھی۔
اور میں سمجھ نہیں پایا
تھا کہ اس نے کبھی سکول کیوں نہیں چھوڑا،
اور ہمارے سکول کی گرفت
کا بندھن کبھی کیوں نہیں توڑا۔
پھر اپنی آخری میعاد کے
اَدھ رستے میں
وہ بیمار پڑا اور کبھی
نہ لوٹا۔
اور وہ نقشے والی دھرتی
تک کبھی نہ پہنچا
جہاں نارنجی کے درختوں
کے سبز پتے دہک رہے تھے۔
نقشے کمرۂ جماعت کی
دیوار سے نیچے اتار دیے گئے۔
اس کا نام بھلا دیا
گیا، وہ ذہنوں سے محو ہو گیا۔
لیکن ایک ایسا سبق جسے
وہ کبھی نہیں جانتا تھا کہ اس نے سکھایا
آج تک میرے ساتھ ہے۔
میں سفر کرتا ہوں ان
جگہوں کا جہاں سبز پتے دہکتے ہیں
جہاں ںشیشۂ سمندر شفاف
اور نیلگوں ہے،
ان تمام جگہوں پر جاتا
ہوں جن سے میرے استاد نے مجھے پیار کرنا سکھایا۔
لیکن جہاں پر وہ خود
کبھی نہ پہنچ پایا۔
Original Text:
Geography Lesson
By Brian Patten
Our teacher told us
one day he would leave the school
And sail across a warm
blue sea
To places he had only
known from maps,
And all his life had
longed to be.
The house he lived in
was narrow and gray
But in his mind’s eye
he could see
Sweet-scented jasmine
clambering up the walls,
And green leaves
burning on an orange tree.
He spoke of the lands
he longed to visit,
Where it was never
drab or cold.
And I couldn’t
understand why he never left,
And shook off our
school’s stranglehold.
Then half-way through
his final term
he took ill and he
never returned.
And he never got to
that place on the map
Where the green leaves
of the orange trees burned.
The maps were pulled
down from the classroom wall;
His name was
forgotten, it faded away.
But a lesson he never
knew he taught
Is with me to this
day.
I travel to where the
green leaves burn,
To where the ocean’s
glass-clear and blue,
To all those places my
teacher taught me to love–
But which he never
knew.
www.facebook.com/groups/AAKUT/

Comments
Post a Comment