نظم : میں ہوں! ، شاعر : جان کلیئر (برطانیہ)

! نظم : میں ہوں

شاعر : جان کلیئر (برطانیہ)

اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)




میں ہوں - تاہم میں کیا ہوں کسی کو پروا نہیں یا کوئی جانتا نہیں؛

میرے احباب میرا ساتھ یوں چھوڑ گئے جیسے یادداشت کھو جاتی ہے۔

میں اپنے رنج و آلام کو خود ہی سہتا ہوں-

وہ تغافل شعار انبوہ میں ابھرتے اور ڈوب جاتے ہیں،

محبت کے جنوں میں درد سے چور سائے کی طرح

اور پھر بھی میں ہوں ، اور جی رہا ہوں — جس طرح بخارات معدوم ہو جاتے ہیں



حقارت اور شور و غوغا کے خلا میں

جاگتے خوابوں کے زندہ سمندر میں

جہاں زندگی کا احساس ہے نہ مسرت کی رمق،

لیکن میرے وسیع تر وقارِ حیات کی تباہی کا ملبہ( مجھ پہ ہی آن پڑا )۔

حتّٰی کہ میرے عزیزانِ من بھی جنھیں میں نے سب سے زیادہ چاہا۔

اجنبی ہیں - نہیں، بلکہ، اوروں سے کہیں زیادہ نا آشنا۔



میں ایسے منظروں کا شیدائی ہوں جنھیں انسان کے قدموں نے پہلے کبھی نہ چھوا ہو۔

ایسی جگہ جہاں ناری کے لب کبھی مسکائے نہ کبھی آنکھ نے آنسو بہائے ہوں

وہاں اپنے خالق ، خدا کے ساتھ ہمیشہ رہنا ہے

اور یوں سونا ہے جیسے بچپن میں میٹھی نیند سوتا تھا،

جہاں لیٹے ہوئے میں دکھ رساں ہوں نہ مجھےکوئی اذیت ہو

تلے گھاس کا بچھونا — اوپر فلک کی محرابی چھت تنی ہو۔


Original Text:

 

I Am!

BY JOHN CLARE

I am—yet what I am none cares or knows;

My friends forsake me like a memory lost:

I am the self-consumer of my woes—

They rise and vanish in oblivious host,

Like shadows in love’s frenzied stifled throes

And yet I am, and live—like vapours tossed



Into the nothingness of scorn and noise,

Into the living sea of waking dreams,

Where there is neither sense of life or joys,

But the vast shipwreck of my life’s esteems;

Even the dearest that I loved the best

Are strange—nay, rather, stranger than the rest.



I long for scenes where man hath never trod

A place where woman never smiled or wept

There to abide with my Creator, God,

And sleep as I in childhood sweetly slept,

Untroubling and untroubled where I lie

The grass below—above the vaulted sky.

 

 

www.facebook.com/groups/AAKUT/

 

Comments