نظم : رقصِ حیات ، شاعر : چارلس بکاؤسکی (امریکہ)
نظم : رقصِ حیات
شاعر : چارلس بکاؤسکی
(امریکہ)
مترجم : رومانیہ نور
(ملتان)
وہ حصہ جو روح اور دماغ
کو تقسیم کرتا ہے
کئ طرح سے تجربے کے
زیرِ اثر ہوتا ہے
کچھ لوگ ہوش گنوا دیتے
ہیں
اورمحض وجود بن کر رہ
جاتے ہیں
دیوانے (کہلاتے ہیں)
کچھ لوگ روح سے محروم
ہو جاتے ہیں
اور خرد مند بن جاتے
ہیں
فرزانے ( کہلاتے ہیں)
کچھ لوگ دونوں ہی کھو
دیتے ہیں
مقبول( ہو جاتے ہیں۔)
Original Text:
Lifedance by
Charles Bukowski
The area dividing the
brain and the soul
is affected in many
ways by
experience –
Some lose all mind and
become soul:
insane.
Some lose all soul and
become mind:
intellectual.
Some lose both and
become:
accepted.
ترجمہ
نگار سے رابطہ کے لیے:
www.facebook.com/groups/AAKUT/

Comments
Post a Comment