نظم : آئینہ ، شاعرہ : سلویا پلاتھ (امریکہ)

 نظم : آئینہ

شاعرہ : سلویا پلاتھ (امریکہ)
ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)


میں آبدار اور عین کھرا ہوں۔ میرے کوئی پیشگی گمان نہیں ہیں۔
میں جو بھی دیکھتا ہوں فوراً وہی روپ اختیار کر لیتا ہوں ۔
من و عن ، محبت یا ناپسندیدگی سے بے نیاز۔
میں ظالم نہیں ہوں صرف سچا ہوں
ایک چوکھٹے میں دیوتا کی آنکھ ہوں۔
زیادہ تر وقت میں مقابل دیوار میں محو رہتا ہوں۔
جا بہ جا دھبوں سے بھری ۔ میں اک مدت سے اسے تک رہا ہوں۔
مجھے لگتا ہے کہ یہ میرے وجود کا حصہ ہے۔ لیکن یہ مرتعش رہتی ہے۔
شبیہیں اور تیرگی ہمیں بار بار دو لخت کرتی ہیں۔

اب میں ایک جھیل ہوں۔ ایک عورت میرے اوپر جھکتی ہے،
وہ میری سطح ِ آب پر اپنی حقیقت تلاش کر رہی ہے.
پھر وہ ان جھوٹوں، قندیلوں اور ماہتاب کی طرف رخ موڑتی ہے۔
میں اسے پشت سے دیکھتا ہوں، اور اس کی دیانت داری سے عکاسی کرتا ہوں۔
وہ مجھے آنسوؤں اور ہاتھوں کی اشتعال انگیزی سے نوازتی ہے۔
میں اس کے لیے اہم ہوں۔ وہ آتی ہے اور جاتی ہے۔
ہر صبح یہ اس کا چہرہ ہی ہے جو تاریکی کو اجالتا ہے۔
اس نے ایک پُر شباب لڑکی کو تہہِ آب کر دیا ہے اور میرے اندر سے ایک سال خوردہ عورت
ایک ماہیِ پُر ہول کی طرح روز بہ روز اس کی طرف بڑھتی جاتی ہے۔

Mirror
By Sylvia Plath


I am silver and exact. I have no preconceptions.
Whatever I see I swallow immediately
Just as it is, unmisted by love or dislike.
I am not cruel, only truthful,
The eye of a little god, four-cornered.
Most of the time I meditate on the opposite wall.
It is pink, with speckles. I have looked at it so long
I think it is part of my heart. But it flickers.
Faces and darkness separate us over and over.

Now I am a lake. A woman bends over me,
Searching my reaches for what she really is.
Then she turns to those liars, the candles or the moon.
I see her back, and reflect it faithfully.
She rewards me with tears and an agitation of hands.
I am important to her. She comes and goes.
Each morning it is her face that replaces the darkness.
In me she has drowned a young girl, and in me an old woman
Rises toward her day after day, like a terrible fish. 

 


 

ترجمہ نگار سے رابطہ کے لیے:

romanianoor133@gmail.com

 

 

www.facebook.com/groups/AAKUT/

 

 

Bottom of Form

 

Comments