نظم : زہریلا درخت ، شاعر: ولیم بلیک (برطانیہ)

 نظم :   زہریلا درخت   

شاعر: ولیم بلیک (برطانیہ)

ترجمہ: رومانیہ نور (ملتان)

 


میں اپنے دوست سے خفا تھا

میں نے اسےخفگی کا بتایا،

میرا ملال چھٹنے لگا۔

میں اپنے عدو سے برہم تھا

میں نے برہمی کو نہیں جتایا،

مجھ میں کرودھ پنپنے لگا۔

میں نے شام وسحر اس(رنجش کے بیج)کو

خوف کے اشکوں سے سیراب کیا۔

میں نے پُرفریب کومل مسکراہٹوں کو

چمکیلی دھوپ کے لئے مثلِ آفتاب کیا۔

روز و شب یہ (شجر) نمو پانے لگا

چمکتے سیب سا( منافقت کا مہلک)پھل لانے لگا۔

میرے غنیم نے اس کی تابانی پہ نگاہ کی،

وہ جانتا تھا کہ میں نے ہی اس کی نشو و نما کی۔

وہ دبے پاؤں میرے گلشن میں چرانے آیا،

جب چہار جانب رات نے تاریکی کا گھونگھٹ پھیلایا۔



صبحدم یہ دیکھ کر میری مسرت کا ٹھکانہ نہ رہا

درخت کے نیچے میرے دشمن کا وجود مردہ تھا پڑا۔


Original Text:

 

A Poison Tree

By William Blake



I was angry with my friend;

I told my wrath, my wrath did end.

I was angry with my foe:

I told it not, my wrath did grow.



And I waterd it in fears,

Night & morning with my tears:

And I sunned it with smiles,

And with soft deceitful wiles.



And it grew both day and night.

Till it bore an apple bright.

And my foe beheld it shine,

And he knew that it was mine.



And into my garden stole,

When the night had veild the pole;

In the morning glad I see;

My foe outstretched beneath the tree.

 

ترجمہ نگار سے رابطہ کے لیے:

romanianoor133@gmail.com

 

 

www.facebook.com/groups/AAKUT/

 

Comments