نظم : جب ہم دونوں جدا ہوئے ، شاعر: جارج گورڈن بائرن (برطانیہ)
نظم : جب ہم دونوں جدا ہوئے
شاعر: جارج گورڈن
بائرن (برطانیہ)
اردو ترجمہ: رومانیہ
نور (ملتان)
جب ہم دونوں جدا ہوئے
خاموشی اور آنسوؤں میں
ڈوبے
نیم شکستہ دل کےساتھ
سالہا سال کے ترکِ تعلق
کا بوجھ اٹھائے،
تو تمہارے رخسار زرد
اور ٹھنڈے پڑ گئے تھے۔
تمہارے بوسے ان سے بھی
سرد تر تھے۔
سچ تو یہ ہے کہ اس لمحۂ
غم کا بیان
پہلے سے ہی امکان میں
تھا۔
صبح کے شبنمی قطرے
میری پیشانی کو
ٹھٹھراتے ہیں
مجھے اب یوں محسوس ہوتا
ہے
یہ میرے جذبات کو
تنبیہہ کرتے ہیں۔
تمہارے سارے عہد شکستہ
نکلے
اور تمھارے نام کے چرچے
ہو گئے۔
میرے سامنے تمہارا ذکر
ہوتا ہے
اور میں تیری جستجو پر
شرمسار ہوتا ہوں۔
تمہارا نام میری
سماعتوں میں
کسی اعلانِ مرگ کی صورت
اترتا ہے۔
میرے وجود پر اک لرزہ
طاری ہوتا ہے۔
تم مجھے اس قدر عزیز
کیونکر تھے؟
وہ جو تیرے واقفانِ حال
ہیں
انھیں نہیں خبر کہ
کبھی ہم بھی تم سے تھے
آشنا۔
مدتوں مجھے اس بات کا
ملال ہو گا،
لفظوں میں نہ جس کا
اظہار ہوگا۔
ہم رازداری سے ملے تھے
اب خاموشی سے تمہارا غم
مناتا ہوں،
کہ تم نےدل سے مجھے
بھلا دیا۔
اپنے جذبوں میں فریب
ملا لیا۔
اگر عرصۂ دراز بعد
تم سے ہو ملاقات کا
امکاں
تو کیسا ہو گا ملن کا
سماں؟
گہرا سکوت اور اشک
رواں۔
When We Two Parted
By George Gordon Byron
When we two parted
In silence and tears,
Half broken-hearted
To sever for years,
Pale grew thy cheek
and cold,
Colder thy kiss;
Truly that hour
foretold
Sorrow to this.
The dew of the morning
Sunk chill on my
brow--
It felt like the
warning
Of what I feel now.
Thy vows are all
broken,
And light is thy fame;
I hear thy name
spoken,
And share in its
shame.
They name thee before
me,
A knell to mine ear;
A shudder comes o'er
me--
Why wert thou so dear?
They know not I knew
thee,
Who knew thee too
well--
Long, long shall I rue
thee,
Too deeply to tell.
In secret we met--
In silence I grieve,
That thy heart could
forget,
Thy spirit deceive.
If I should meet thee
After long years,
How should I greet
thee?--
With silence and
tears.
ترجمہ نگار سے رابطہ کے لیے:
www.facebook.com/groups/AAKUT/

Comments
Post a Comment