نظم : لیک آئل آف اِنِیسفری ، شاعر : ولیم بٹلر ییٹس (برطانیہ)
نظم : لیک آئل آف اِنِیسفری
شاعر : ولیم بٹلر ییٹس (برطانیہ)
اردو ترجمہ : رومانیہ
نور (ملتان)
(جی میں آتی ہے کہ)
ابھی اٹھ کھڑا ہوں اور
انیسفری کی راہ لوں
وہاں گارے اور شاخوں سے
اک کٹیا بناؤں
نو قطاریں لوبیا کی
اگاؤں
شہد کی مکھیوں کا اک
چھتا لگاؤں
اور مرغزار میں مگس کی
بھنبھناہٹ میں تنہا زندگی بتاؤں
میں وہاں کچھ سکون پاؤں
گا
سکون قطرہ قطرہ میری
روح میں اترتا ہے
صبح کا نقاب گرنے سے لے
کر جھینگروں کے گیت گانے تک
وہاں جھلملاتی رات ہوگی
اور ارغوانی چمکیلا دن
اور خوش الحان چڑیا کی
پھڑپھڑاہٹ سے آباد شام
اب میں اٹھوں گا اور
سامانِ سفر باندھوں گا
کہ روز و شب ہمیشہ میں
دامنِ ساحل سے ٹکراتے
پانی کی دھیمی صدا سنتا ہوں
جب میں اداس رستے پر یا
پختہ سڑک پر ٹھہرتا ہوں
میں دل کی گہرائیوں میں
یہی آواز سنتا ہوں
نوٹ: لیک آئل آف
اِنِیسفری آئر لینڈ کے ساحل کے پاس ایک حقیقی جزیرہ ہے.
Original Version:
The Lake Isle of
Innisfree
BY WILLIAM BUTLER
YEATS
I will arise and go
now, and go to Innisfree,
And a small cabin
build there, of clay and wattles made;
Nine bean-rows will I
have there, a hive for the honey-bee,
And live alone in the
bee-loud glade.
And I shall have some
peace there, for peace comes dropping slow,
Dropping from the
veils of the morning to where the cricket sings;
There midnight’s all a
glimmer, and noon a purple glow,
And evening full of
the linnet’s wings.
I will arise and go
now, for always night and day
I hear lake water
lapping with low sounds by the shore;
While I stand on the
roadway, or on the pavements grey,
I hear it in the deep
heart’s core.
ترجمہ نگار سے رابطہ کے لیے:
www.facebook.com/groups/AAKUT/

Comments
Post a Comment