نظم : جوں جوں میری عمر بڑھی ، شاعر: لینگسٹن ہیوز (امریکہ)
نظم : جوں جوں میری عمر بڑھی
شاعر: لینگسٹن ہیوز
(امریکہ)
مترجم: ،رومانیہ نور (ملتان)
طویل عرصے کی بات ہے یہ
اب مجھ کو اپنا سپنا
بھول گیا ہے
مگر تب یہ میرے پیشِ
نظر تھا
سورج جیسا روشن
میراسپنا
اور پھر اک دیوار اٹھی
رفتہ رفتہ بڑھتی گئی
میرے اور سپنے کے بیچ آ
کھڑی ہوئی
بلندی اس کی فلک سے جا
ٹکرائی
ایک دیوار
ایک پرچھائی
میں ایک سیاہ فام ہوں
سائے میں زمین پر پڑا
ہوں
میرے خواب کی لو میرے
سامنے نہیں
میرے اوپر موٹی دیوار
اور
اس کا سایہ ہے چھایا
میرے ہاتھو!
میرے سیاہ ہاتھو!
اس دیوار کو توڑ ڈالو
کوئی رستہ نکالو
میرا سپنا ڈھونڈ لاؤ
میری مدد کرو
اس سیاہیِ شب کو اجالنے
میں
اس سایۂ ظلمت کو
نورِ خورشید ہزارہا
ڈھالنے میں
سورج کے ہزاروں شوریدہ
خواب پالنے میں۔
Original Title:
As I Grew Old
by Langston Hughes
It was a long time
ago.
I have almost
forgotten my dream.
But it was there then,
In front of me,
Bright like a sun--
My dream.
And then the wall
rose,
Rose slowly,
Slowly,
Between me and my
dream.
Rose until it touched
the sky--
The wall.
Shadow.
I am black.
I lie down in the
shadow.
No longer the light of
my dream before me,
Above me.
Only the thick wall.
Only the shadow.
My hands!
My dark hands!
Break through the
wall!
Find my dream!
Help me to shatter
this darkness,
To smash this night,
To break this shadow
Into a thousand lights
of sun,
Into a thousand
whirling dreams
Of sun!
ترجمہ نگار سے رابطہ کے لیے:
www.facebook.com/groups/AAKUT/

Comments
Post a Comment