نظم : پیانو ، شاعر:ڈی ایچ لارنس (برطانیہ)
نظم : پیانو
شاعر:ڈی ایچ لارنس
(برطانیہ)
مترجم : رومانیہ نور
(ملتان)
شام کے دھندلکے میں ایک
عورت
نزاکت سے میرے لئے نغمہ
سرا ہے
یہ لمحہ مجھے برسوں
پہلے کے منظروں میں لے جا رہا ہے
یہاں تک کہ میں دیکھتا
ہوں
جھنجھناتے تاروں کے
بلند آہنگ میں پیانو تلے بیٹھا
ایک بچہ ماں کے چھوٹے
چھوٹے متوازن پاؤں دابتا ہے۔
ماں گاتی ہے اور اسے
دیکھ کر مسکراتی ہے۔
مدہوش کُن گیت با دلِ
نخواستہ مجھے
ماضی کے فریب میں لئے
جاتا ہے
میرا دل اتوار کی شاموں
کو یاد کر کے آنسو بہاتاہے
جب باہر پڑتی سردی میں
گرم نشست گاہ میں
پیانو کے سروں کے سنگ
مناجات گونجتی تھیں
اب سیاہ پیانو کی پر
جوش دھن کے ساتھ
مغنیہ کا راگ الاپنا
محض شورِ بے کار ہے
بچپن کے دنوں کا نشہ
مجھ پر چھایا ہے
میری جوانی افسردگی اور
یادوں کے سیلاب میں
بہی جاتی ہے
میں یادِ ماضی میں اک
بچے کی طرح روتا ہوں
*
Original Version:
Piano
by D. H. Lawrence
Softly, in the dusk, a
woman is singing to me;
Taking me back down
the vista of years, till I see
A child sitting under
the piano, in the boom of the tingling strings
And pressing the
small, poised feet of a mother who smiles as she sings.
In spite of myself,
the insidious mastery of song
Betrays me back, till
the heart of me weeps to belong
To the old Sunday
evenings at home, with winter outside
And hymns in the cozy
parlor, the tinkling piano our guide.
So now it is vain for
the singer to burst into clamor
With the great black
piano appassionato. The glamour
Of childish days is
upon me, my manhood is cast
Down in the flood of
remembrance, I weep like a child for the past.
ترجمہ نگار سے رابطہ کے لیے:
www.facebook.com/groups/AAKUT/

Comments
Post a Comment