نظم : پہلی نظر کا پیار ، شاعرہ : وسواوا سمبورسکا (پولینڈ)
نظم : پہلی نظر کا پیار
شاعرہ : وسواوا
سمبورسکا (پولینڈ)
اردو ترجمہ : رومانیہ
نور (ملتان)
دونوں اس بات پر قائل
ہیں
کہ کسی ناگاہ جذبۂ شوق
سے وہ بہم ہوئے۔
یہ یقیں دلنشیں ہے
مگر عدم یقیں ابھی بھی
کہیں بڑھ کے حسیں ہے۔
انہیں گماں ہے کہ اب سے
پہلے
وہ ایک دوسرے سے انجان
تھے
ان کے درمیان کبھی کوئی
سلسلہ نہ تھا۔
مگر وہ گلیاں، زینے اور
دالان
کیا ہوئے
جن کے درمیاں ، پہلو بہ
پہلو
وہ سالہا سال رواں رہے
؟
میں ان سے پوچھنا پسند
کروں گی
کیا انہیں یاد نہیں ہے
شاید کہ گردشی دروازوں
سے
بسا اوقات کہیں روبرو
گزر؟
پر ہجوم جگہوں پر اک
لفظ "معذرت " ؟
رسیور میں اٹکا کرخت
عذر "سوری رانگ نمبر" ؟
مگر مجھے جواب معلوم ہے
نہیں ، انہیں کچھ یاد
نہیں
وہ سن کر حیراں رہ
جائیں گے
کہ عرصۂ دراز سے اتفاق
ان سے کھلواڑ کرتا آیا
ہے ۔
اور اس پل بھی ان کا
مقدر بننے پر آمادہ نہیں ،
یہی باعث قرب ہے ،
یہی باعث فراق،
اسی نے رستہ روک دیا
ہے،
ہنسی کا گلا گھونٹ دیا
ہے ،
اور اپنا دامن بچا لیا
ہے۔
یوں تو نشانیاں بھی
تھیں ، اشارے بھی تھے ،
مگر وہ آج تک پڑھ نہ
سکے جو استعارے تھے۔
شاید یہ تین سال پہلے
کا قصہ ہے
یا پھر گزشتہ منگل کا
ذکر ہے
جب ایک ہی پات ، اس
شانے کبھی اس شانے پہ پھڑپھڑا رہا تھا ؟
ایک نےکچھ گرایا دوسرے
نے اٹھا لیا تھا ،
کون جانے وہ کیا تھا
شاید ایک گیند جو کہیں
بچپن میں جھاڑیوں میں کھو گئی تھی؟
دروازے کی نابیں اور
اطلاعی گھنٹیاں
جنہیں دونوں کی پوروں
نے چھوا،
بارہا اک لمس نے دوسرے
کو ڈھک لیا تھا.
ساتھ ساتھ رکھے سفری
بیگ،
کسی شب دیکھا ایک جیسا
خواب ،
جو صبح کی روشنی میں
دھندلا گیا تھا۔
ہر آغاز محض اک تسلسل
ہے
کڑی سے کڑی جڑی رہتی ہے
،
داستانِ حیات کی کتاب
ہمیشہ ادھ کھلی ہی رہتی
ہے۔
(انگریزی سے اردو
ترجمہ)
English Text:
Love at First Sight
Poet: Wislawa
Szymborska.( Poland)
(a Polish literary
figure and 1996 Nobel-Prize Winner in Literature)
They’re both convinced
that a sudden passion
joined them.
Such certainty is
beautiful,
but uncertainty is
more beautiful still.
Since they’d never met
before, they’re sure
that there’d been
nothing between them.
But what’s the word
from the streets, staircases, hallways—
perhaps they’ve passed
by each other a million times?
I want to ask them
if they don’t
remember—
a moment face to face
in some revolving
door?
perhaps a “sorry”
muttered in a crowd?
a curt “wrong number”
caught in the receiver?—
but I know the answer.
No, they don’t
remember.
They’d be amazed to
hear
that Chance has been
toying with them
now for years.
Not quite ready yet
to become their
Destiny,
it pushed them close,
drove them apart,
it barred their path,
stifling a laugh,
and then leaped aside.
There were signs and
signals,
even if they couldn’t
read them yet.
Perhaps three years
ago
or just last Tuesday
a certain leaf
fluttered
from one shoulder to
another?
Something was dropped
and then picked up.
Who knows, maybe the
ball that vanished
into childhood’s
thicket?
There were doorknobs
and doorbells
where one touch had
covered another
beforehand.
Suitcases checked and
standing side by side.
One night, perhaps, the
same dream,
grown hazy by morning.
Every beginning
is only a sequel,
after all,
and the book of events
is always open halfway
through.
www.facebook.com/groups/AAKUT/

Comments
Post a Comment