نظم : اےموت! مغرور نہ ہو ، شاعر: جان ڈن (لندن)
نظم : اےموت! مغرور نہ ہو
شاعر: جان ڈن (لندن)
انتخاب و ترجمہ :
رومانیہ نور (ملتان)
اےموت! مغرور نہ ہو،
اگرچہ کچھ لوگ تجھے
غالب اور بھیانک کہتے ہیں
حالانکہ تم ایسی ہر گز
نہیں ہو
جنھیں تم خانماں برباد
کہتی ہو یہ تمہاری خام خیالی ہے
اری لاچار موت! وہ مرتے
نہیں، نہ ہی مجھے تم مار سکتی ہو۔
وہ تو چین کی نیند سوتے
ہیں
نیند اور آرام بھی
تمہاری ہی اک صورت بتاتے ہیں
تبھی وہ تم سے بے تحاشا
راحت پاتے ہیں۔
ہمارے عظیم لوگ بعجلت
تمہارے ہمراہ نکل جاتے ہیں
ہڈیوں کو سکون دیتے
ہیں، روح سے نجات پاتے ہیں
تم تقدیر، اتفاقات،
بادشاہوں اور مایوس لوگوں کی غلام ہو
زہر، جنگ اور بیماری کے
ساتھ قیام پذیر ہو
یوں تو نیند طاری کر
سکتے ہیں نشہ و سِحر
تمہاری ضربِ کاری سے ان
کے سلانے کا انداز ہے بہتر
پھر تم کس لئے سینہ
پھلاتی ہو؟
ایک مختصر سی نیندِ
ماضی کے سوا کیا ہو؟
پھر اک دائمی لہرِ
بیداری چھائے گی
اور موت کا وجود باقی
نہ رہے گا
موت کو بھی موت آئے گی
Death, be not proud
BY JOHN DONNE
Death, be not proud,
though some have called thee
Mighty and dreadful,
for thou art not so;
For those whom thou
think'st thou dost overthrow
Die not, poor Death,
nor yet canst thou kill me.
From rest and sleep,
which but thy pictures be,
Much pleasure; then
from thee much more must flow,
And soonest our best
men with thee do go,
Rest of their bones,
and soul's delivery.
Thou art slave to
fate, chance, kings, and desperate men,
And dost with poison,
war, and sickness dwell,
And poppy or charms
can make us sleep as well
And better than thy
stroke; why swell'st thou then?
One short sleep past,
we wake eternally
And death shall be no
more; Death, thou shalt die.
ترجمہ نگار سے رابطہ کے لیے:
www.facebook.com/groups/AAKUT/

Comments
Post a Comment