فنون ِ لطیفہ کا نگار خانہ , شاعر : ڈبلیو ایچ آڈن (امریکہ), مترجم : رومانیہ نور (ملتان)
فنون ِ لطیفہ کا نگار خانہ
شاعر
: ڈبلیو ایچ آڈن (امریکہ)
مترجم : رومانیہ نور (ملتان)
تکلیف کی تصویر کشی
میں وہ کبھی خطا نہیں کرتےتھے
کہنہ صورت گر: وہ
خوب اچھی طرح سے سمجھتے تھے۔
اس کی انسانی حیثیت:
یہ کیسے لاحق ہوتی ہے۔
جب کہ کوئی دوسرا
مصروف ِ طعام رہتا ہے
دریچے سے جھانکتا
ہے یا یونہی گلی میں ٹہل رہا ہے؛
جب بوڑھے کس تعظیم سے، والہانہ طور پر انتظار کر رہے ہیں۔
مسیح موعود کے
معجزانہ جنم کا، وہیں پر لازماً
وہ طفلان بھی ہیں
جنہیں اس واقعہ کی رونمائی سے کچھ خاص سرو کار نہیں ، جنگل کے سرے پر منجمد تالاپ
میں اسکیٹنگ کر رہے ہیں۔
وہ(کہنہ صورت گر)
کبھی نہیں بھولے
اس ہولناک شہادت
کو جسے اسی طور سر انجام پانا تھا
کسی ایک کونے میں،
کچھ بد نما داغ ہیں
جہاں سگ اپنی سگ
روش زندگی گزارتے ہیں اور جلاد کا گھوڑا
اپنی بے ضرر پشت کو پیڑ
سے کھجاتا ہے
بطورِ مثال بروئیگِل
کے اکارس *کے قصےمیں ہر چیز کس طرح منہ موڑ جاتی ہے
اس سانحہ پر ہالی نے کس سہولت سے
چھپاک کی آواز ، بچھڑنے والے کی پکار سنی ہو گی،
مگر اس کی دانست میں یہ کوئی بڑا حادثہ نہ تھا
سورج چمکتا رہا
سمندر کے ہرے پانی میں غرق ہوتی اجلی ٹانگوں پر
اور مہنگے نازک بجرے نے بھی تو دیکھا ہو گا
کوئی حیرت انگیز نظارہ ، آسمان سے گرتے ایک لڑکے کا،
مگر اس کو تو کہیں پہنچنا تھا سو وہ سکون سے سوئےمنزل
روانہ ہوا۔
Musee des Beaux Arts
(Museum of Fine Arts)
by W. H.
Auden
About
suffering they were never wrong,
The old
Masters: how well they understood
Its human
position: how it takes place
While
someone else is eating or opening a window or just walking dully along;
How, when
the aged are reverently, passionately waiting
For the
miraculous birth, there always must be
Children who
did not specially want it to happen, skating
On a pond at
the edge of the wood:
They never
forgot
That even
the dreadful martyrdom must run its course
Anyhow in a
corner, some untidy spot
Where the
dogs go on with their doggy life and the torturer's horse
Scratches
its innocent behind on a tree.
In
Breughel's Icarus, for instance: how everything turns away
Quite
leisurely from the disaster; the ploughman may
Have heard
the splash, the forsaken cry,
But for him
it was not an important failure; the sun shone
As it had to
on the white legs disappearing into the green
Water, and
the expensive delicate ship that must have seen
Something
amazing, a boy falling out of the sky,
Had
somewhere to get to and sailed calmly on.
مترجم کا نوٹ:
Musée
des Beaux Arts ایک
فرنچ فریز ہے جس کے انگریزی معنی ہیں. Museum
of Fine Arts ڈبلیو
ایچ آڈن نے یہ نظم دسمبر 1938 میں لکھی تھی
جب وہ بیلجیئم کے شہر برسلز میں مقیم تھے۔
جب آڈن نےمیوزیم کا دورہ کیا تو اس نے نظم
کی دوسری سطر میں ذکر کردہ "اولڈ ماسٹرز" کی متعدد پینٹنگز دیکھیں جن میں
سے مشہور ڈچ مصور Pieter Bruegel
the Elderکی تین مشہور تصاویر
کا نظم میں حوالہ ہے ۔
تین تصاویر یہ ہیں۔
1
Massacre of the Innocents (Bruegel)
2
The Census at Bethlehem
3
the Fall of Icarus
حواشی:
*
اکارس یونانی دیو مالا کا المیہ کردار ہے جو سورج پر
پہنچنے کی چاہت میں موم کے پنکھ لگا کر اڑا اور جوں جوں سورج کے قریب پہنچا تپش سے
اس کے پروں کی موم پگھلتی گئی اور وہ گر
کر سر کے بل سمندر میں غرق ہو گیا۔
*نظم
میں دو طبقات کی نمائندگی ہے ایک وہ جو مبتلائے ابتلاء ہے اور دوسرا وہ جو سرے سے
ان کے آلام سے لاتعلق ہے۔



Comments
Post a Comment