نظم : مت ہچکچائیں (Don’t Hesitate)، شاعرہ : میری آلیور (امریکہ)
نظم : مت ہچکچائیں
شاعرہ : میری آلیور (امریکہ)
ترجمہ : رومانیہ نور
(ملتان)
اچانک اور ناگاہ خوشی ملے تو مت ہچکچائیں
اسے تسلیم کریں ، گلے سے لگائیں
کتنی جانیں اور قریے برباد ہوئے
اور کچھ ہونے کو تیار ہیں۔
ہم دانا نہیں اور اکثر نامہربان ہوتے ہیں
کچھ فراواں ہے ، جس سے کبھی دامن چھڑایا جا نہیں سکتا۔
پھر بھی زندگی میں کوئی امکان باقی رہتا ہے
شاید زندگی کی جنگ لڑنے کا یہی ڈھنگ ہے
کبھی کبھی کچھ باتیں جو پیش آتی ہیں
دنیا کے سب دھن
اور طاقت سے بہتر ہوتی ہیں۔
اس کی کچھ بھی صورت ہو سکتی ہے
عین ممکن ہے کہ تم اُس سمے اِس سے آشنا ہو جب محبت کا آغاز ہوتا ہے
گو اکثر یہی
دستور ہوتا ہے ۔
بہر حال اس کی جو بھی صورت ہو اس کی کثرت سے مت گھبرانا
کہ خوشی ٹکڑوں میں بٹنے کے لیے نہیں بنی ۔
Don’t Hesitate
BY
MARY OLIVER
If
you suddenly and unexpectedly feel joy,
don’t
hesitate. Give in to it. There are plenty
of
lives and whole towns destroyed or about
to
be. We are not wise, and not very often
kind.
And much can never be redeemed.
Still,
life has some possibility left. Perhaps this
is
its way of fighting back, that sometimes
something
happens better than all the riches
or
power in the world. It could be anything,
but
very likely you notice it in the instant
when
love begins. Anyway, that’s often the case.
Anyway,
whatever it is, don’t be afraid
of
its plenty. Joy is not made to be a crumb.

Comments
Post a Comment