زندگی کیا ہے؟ || شاعر : جان کلیئر(برطانیہ) || مترجم : رومانیہ نور

 

زندگی کیا ہے؟

شاعر : جان کلیئر(برطانیہ)

اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)




 

زندگی کیا ہے؟ وقت پیما کا جھڑتا ہوا پارہ،

خورشیدِ صبح کے چہرے سے چھٹتی ہوئی دھند،

اک مصروف ، ہنگامہ خیز ، دہرایا ہوا خواب۔

اس کی طوالت؟ اک وقفۂ ساعت، اک لمحۂ خیال۔

اور خوشی؟ اک حباب سطحِ آب،

جو چھونے کی خواہش میں معدوم ہوتا جائے۔

 

اور امید کیا ہے؟ بادِ سحر کا تیز جھونکا

جو شبنمی باغیچے کی دلکشی چرا لے جاتا ہے

 زرِ گُل کو اڑا لے جاتا ہے ، اور  گُل مرجھا جاتا ہے؛

مکڑی کا اک جالا ، جو مایوسی کا خار چھپائے  ،

 اس مہین بھیس میں گہری ٹھیس پہنچاتا ہے  ۔

 

اور موت کیا ہے؟ کیا ابھی تک اس کا کوئی سِرا نہیں ملا؟

مہیب آواز کا وہ تاریک پراسرار نام؟

ایک لمبی ، دیرپا نیند ، دکھیارے جس کو  ترستے ہیں۔

اور سکون؟ اس کی خوشیوں کی بہتات کہاں؟

 کہیں نہیں ،  بہشت اور قبر کے سوا۔

تو پھر زندگی کیا ہے؟ جب اس کا بھرم  کھل جائے تو ،

اک ایسی آرزو جس کی تکمیل محال ہو

حتی کہ ہر شے جو ہماری پاگل آنکھیں دیکھتی ہیں

اپنے فریب پر خود صاد کرتی ہے۔

لیکن یہ (زندگی) ایک آزمائش ہے جس سے سب کو گزرنا ہو گا

ناشکروں کو سکھانے کے لیے کہ جزا کیسے ملتی ہے

اس خوشی کی شناسائی سے بشر منکر ہے،

 جب تک کہ اسے دعویٰ کرنے کے لیے آسمانوں پر نہ بلایا جائے۔

 

 

"What is life ?"

John Clare

 And what is Life? An hour-glass on the run,

 A mist retreating from the morning sun,

 A busy, bustling, still-repeated dream.

 Its length? A minute's pause, a moment's thought.

 And Happiness? A bubble on the stream,

 That in the act of seizing shrinks to nought.

 

 And what is Hope? The puffing gale of morn,

 That of its charms divests the dewy lawn,

 And robs each flow'ret of its gem -and dies;

 A cobweb, hiding disappointment's thorn,

 Which stings more keenly through the thin disguise.

 

 And what is Death? Is still the cause unfound?

 That dark mysterious name of horrid sound?

 A long and lingering sleep the weary crave.

 And Peace? Where can its happiness abound?

 Nowhere at all, save heaven and the grave.

 

 Then what is Life? When stripped of its disguise,

 A thing to be desired it cannot be;

 Since everything that meets our foolish eyes

 Gives proof sufficient of its vanity.

 'Tis but a trial all must undergo,

 To teach unthankful mortals how to prize

 That happiness vain man's denied to know,

 Until he's called to claim it in the skies.

Comments