نظم "آسیبی گوشہ" || شاعر : ہینری واڈزورتھ لانگ فیلو || اردو ترجمہ : رومانیہ نور

 نظم "آسیبی گوشہ"

شاعر : ہینری واڈزورتھ لانگ فیلو

اردو ترجمہ : رومانیہ نور

 


ہر خانۂ دل میں اک آسیب بستا ہے ,

جہاں بے صدا چاندنی چٹکتی ہے !

فرش پر بھید بھرے نقش پا باقی ہیں،

 دیواروں سے سر گوشیاں لپٹی ہیں !

 

اورکبھی کبھی میرا دل بھی لرزتا ہے

ماضی کے آسیبوں سے جو

اس طرح سے ساکن جیسے سائے

پُر سکوت چاندنی میں بنتے ہیں

 

اک ہیولہ دریچے سے آن لگتا ہے،

جو دن کو نظر نہیں آتا ہے،

جونہی صبح نمودار ہوتی ہے

یہ نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔

 

   یہ چاندنی میں آن بیٹھتا ہے

   ایک بے حرکت اور زرد وجود

  اور اپنی موہوم انگلی سے اشارہ کرتا ہے

   کھڑکی کی چوکھٹ کے اس پار۔

 

   باہر کھڑکی کے سامنے ،

  ایک اداس صنوبر کھڑا ہے،

 جس کی شاخیں اوپر نیچے لہراتی ہیں

 جیسے میرے اندر سوچیں ہلکورے لیتی ہیں،

 

   اور ان شاخوں کے نیچے

  ایک ننھے بچے کی قبر ہے،

 جو زندگی کی دہلیز پر مر گیا

   کبھی رویا نہ مسکرایا۔

 

اے زرد رو پرچھائیو! تم کیا ہو

جو میرے  منتشر ذہن کو بے چین کرتی ہو؟

 جو سحر ہوتے ہی معدوم ہو جاتی ہو،

  اور رات پڑتے ہی لوٹ آتی ہو؟

 

اے زرد رو پرچھایو! تم کیا ہو،

 محض بے روح سنگی مجسمے

جو موت کے پر سکوت دریا کے

پل پر محیط و ایستادہ ہیں؟

 

 

 '  The Haunted Chamber"

    Henry Wadsworth Longfellow

 

Each heart has its haunted chamber,

Where the silent moonlight falls!

On the floor are mysterious footsteps,

There are whispers along the walls!

 

And mine at times is haunted

By phantoms of the Past

As motionless as shadows

By the silent moonlight cast.

 

A form sits by the window,

That is not seen by day,

For as soon as the dawn approaches

It vanishes away.

 

It sits there in the moonlight

Itself as pale and still,

And points with its airy finger

Across the window-sill.

 

Without before the window,

There stands a gloomy pine,

Whose boughs wave upward and downward

As wave these thoughts of mine.

 

And underneath its branches

Is the grave of a little child,

Who died upon life's threshold,

And never wept nor smiled.

 

What are ye, O pallid phantoms!

That haunt my troubled brain?

That vanish when day approaches,

And at night return again?

 

What are ye, O pallid phantoms!

But the statues without breath,

That stand on the bridge overarching

The silent river of death?

Comments