Posts

Showing posts from July, 2023

اس رخصتِ شب میں یوں قرار سے تو نہ جاؤ || شاعر : ڈیلن ٹامس (برطانیہ) || اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)

Image
  اس رخصتِ شب میں یوں قرار سے تو نہ جاؤ شاعر   : ڈیلن ٹامس (برطانیہ) اردو ترجمہ :   رومانیہ نور (ملتان) اس رخصتِ شب میں یوں قرار سے تو نہ جاؤ پِیری کو زندگی کی شام پر کچھ تو گرمانا چاہیے،   غل مچانا چاہیے ؛ مزاحمت ٫ مزاحمت ! شمع ِزندگی بجھنے کے خلاف۔   اگرچہ دانا لوگ یہ سمجھتے ہیں وقت آخر تاریکی جو چھائی ہے یہی انجام ہے کہ ان کے لفظوں نے کوئی جوت جگائی ہی نہ تھی اس رخصتِ شب میں یوں قرار سے تو نہ جاؤ بھلے لوگ ، آخری موج ٹکرانے پر یوں گڑگڑاتے ہیں چھوٹی چھوٹی خوشیاں بھی رنگین ساحلوں پہ رقص کر سکتی تھیں۔ مزاحمت ٫ مزاحمت ! شمع ِزندگی بجھنے کے خلاف۔ بہادر لوگ جو سورج کو چھو آئے ، خوشیوں کے ترانے گائے وہ بھی مبتلائے تاسف ہیں کہ زندگی کارِ ِبےکار میں گزار آئے اس رخصتِ شب میں یوں قرار سے تو نہ جاؤ   قریب المرگ سنجیدہ لوگ ، جن کےمنظر دھندلے ہو جاتے ہیں (سوچتے ہیں) اندھی آنکھیں روشن تارہ ہو سکتی تھیں چمک کا دھارا ہو سکتی تھیں۔ مزاحمت ٫ مزاحمت ! شمع ِزندگی بجھنے کے خلاف۔ اور اے میرے پدر ! اوجِ اداسی کو چھوتے ہوئے آپ مج...