اس رخصتِ شب میں یوں قرار سے تو نہ جاؤ || شاعر : ڈیلن ٹامس (برطانیہ) || اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)

 

اس رخصتِ شب میں یوں قرار سے تو نہ جاؤ

شاعر  : ڈیلن ٹامس (برطانیہ)

اردو ترجمہ :  رومانیہ نور (ملتان)




اس رخصتِ شب میں یوں قرار سے تو نہ جاؤ

پِیری کو زندگی کی شام پر کچھ تو گرمانا چاہیے،

 غل مچانا چاہیے ؛

مزاحمت ٫ مزاحمت ! شمع ِزندگی بجھنے کے خلاف۔

 

اگرچہ دانا لوگ یہ سمجھتے ہیں وقت آخر تاریکی جو چھائی ہے یہی انجام ہے

کہ ان کے لفظوں نے کوئی جوت جگائی ہی نہ تھی

اس رخصتِ شب میں یوں قرار سے تو نہ جاؤ

بھلے لوگ ، آخری موج ٹکرانے پر یوں گڑگڑاتے ہیں

چھوٹی چھوٹی خوشیاں بھی رنگین ساحلوں پہ رقص کر سکتی تھیں۔

مزاحمت ٫ مزاحمت ! شمع ِزندگی بجھنے کے خلاف۔

بہادر لوگ جو سورج کو چھو آئے ، خوشیوں کے ترانے گائے

وہ بھی مبتلائے تاسف ہیں کہ زندگی کارِ ِبےکار میں گزار آئے

اس رخصتِ شب میں یوں قرار سے تو نہ جاؤ

 

قریب المرگ سنجیدہ لوگ ، جن کےمنظر دھندلے ہو جاتے ہیں

(سوچتے ہیں)

اندھی آنکھیں روشن تارہ ہو سکتی تھیں

چمک کا دھارا ہو سکتی تھیں۔

مزاحمت ٫ مزاحمت ! شمع ِزندگی بجھنے کے خلاف۔

اور اے میرے پدر ! اوجِ اداسی کو چھوتے ہوئے آپ

مجھے بد دعا دیں ، یا دعا دیں آپ کے جذباتی آنسوؤں کے لیے میری التجا ہے

اس رخصتِ شب میں یوں قرار سے تو نہ جاؤ

مزاحمت ٫ مزاحمت ! شمع ِزندگی بجھنے کے خلاف۔

(یہ نظم شاعر نے اپنے بزرگ والد جو موت کی دہلیز پر تھے، کے نام لکھی تھی۔)

 

Do Not Go Gentle Into That Good Night

By: Dylan Thomas

Do not go gentle into that good night,

 Old age should burn and rave at close of day;

 Rage, rage against the dying of the light.

 

 Though wise men at their end know dark is right,

 Because their words had forked no lightning they

 Do not go gentle into that good night.

 

 Good men, the last wave by, crying how bright

 Their frail deeds might have danced in a green bay,

 Rage, rage against the dying of the light.

 

 Wild men who caught and sang the sun in flight,

 And learn, too late, they grieved it on its way,

 Do not go gentle into that good night.

 

 Grave men, near death, who see with blinding sight

 Blind eyes could blaze like meteors and be gay,

 Rage, rage against the dying of the light.

 

 And you, my father, there on the sad height,

 Curse, bless, me now with your fierce tears, I pray.

 Do not go gentle into that good night.

 Rage, rage against the dying of the light.

Comments