Posts

Showing posts from January, 2023

نظم : جنگلی چیزوں کا امن، شاعر : وینڈل بیری (امریکہ)

Image
  جنگلی چیزوں کا امن شاعر : وینڈل بیری (امریکہ) مترجم : رومانیہ نور (ملتان)   جب میرے اندر دنیا کے لیے مایوسی بڑھ جاتی ہے۔   اور میں رات کو ہلکی سی آہٹ پرجاگ جاتا ہوں۔   اس اندیشے سے کہ میری اور میرے بچوں کی زندگیوں کا مستقبل کیا ہو گا، میں (آغوشِ فطرت میں) جا کر لیٹ جاتا ہوں جہاں راج ہنس   اپنے جمال میں مگن پانی پر محوِ استراحت ہوتا ہے اور جسیم بگلا مصروفِ طعام ہوتا ہے۔   میں جنگلی چیزوں کی امان میں آجاتا ہوں۔   جو اپنی حیات پر   پیشگی غم کا بوجھ نہیں لادتے   میں ٹھہرے ہوئے پانی کے سامنے موجود ہوتا ہوں۔   اور میں سرِ آسمان دن کو ماند پڑے ستاروں کو محسوس کرتا ہوں۔   جو اپنی ضیا کے ہمراہ چمکنے کے منتظر ہیں .   میں دنیا کی زیبائی میں   چند گھڑیاں آرام کرتا ہوں، اور ( تفکرات ) سے   آزاد ہو جاتا ہوں۔   Original Text: The Peace of Wild Things By Wendell Berry   (America)   When despair for the world grows in me and I wake in the night at the least sound in fear ...

نظم : جدائی، شاعر : W. S. MERWIN

Image
  جدائی تمہاری جدائی میرے وجود میں یوں اتر گئی ہے جیسے تار سوئی میں پرویا ہوا۔ میرے کارِ حیات کا ہر ٹانکا اسی رنگ سے لگا ہے۔ اردو ترجمہ : رومانیہ نور Separation BY W. S. MERWIN Your absence has gone through me Like thread through a needle. Everything I do is stitched with its color. www.facebook.com/groups/AAKUT/

نظم : اور سدا کچھ بھی یوں نہیں ہوتا جو تمہارے حسبِ آرزو ہو۔ ، شاعر : برائن پیٹن (برطانیہ)

Image
نظم :   اور سدا کچھ بھی یوں نہیں ہوتا جو   تمہارے حسبِ آرزو ہو۔ شاعر : برائن پیٹن (برطانیہ) اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)   تم اس کی محبت بھلا دیتے ہو اور پھر اس کا وجود کھو دیتے ہو اور پھر دونوں ہی ہار جاتے ہیں، اور کچھ بھی کبھی اتنا کامل نہیں ہوتا جو تمہارے حسبِ آرزو ہو۔     ایک بہت ہی عام سی دنیا میں   ایک انتہائی غیر معمولی درد چھوٹے معمولات کے ساتھ گھل مل جاتا ہے،   احساسِ زیاں اتنا لگتا ہے کہ پھر کچھ بھی توضیح میں آتا ہے نہ تشریح میں آتا ہے   تم خائف ہو . اگر تمہیں کامل محبت مل گئی۔   یہ تمہارے ہاتھوں کو جلا دے گی،   تمہارے اعصاب سے کھال اڑا دے گی،   خود کار دل کی تباہی مچا دے گی۔   تم اس کی محبت بھلا دیتے ہو اور پھر اس کا وجود کھو دیتے ہو   تم کوشاں ہو کہ دکھ دِہ نہ بنو ، پھر بھی   ہر چیز جو تم نے چھوئی زخم بن گئی۔   تم نے اس کی چارہ گری کی جس کا مداوا کوئی نہیں   تم نے کوشش کی، یہ حماقت ہے نہ بے ہنری ، اس کو بچانے کی جس کی دوا کوئی نہیں۔ ...

نظم : مبادلہ , شاعرہ : سارہ ٹیزڈیل (امریکہ)

Image
  نظم : مبادلہ شاعرہ : سارہ ٹیزڈیل (امریکہ) مترجم : رومانیہ نور (ملتان) زندگی کے پاس بیچنے کو حسن و رعنائی ہے، سب حسین اور عالی شان چیزیں ، چٹان پرکافوری رنگ بدلتی نیلگوں موجیں ، بھڑکتی آگ جو لہراتی اور گاتی ہے، اور آسمان کو تکتے چہرۂ اطفال جن میں پیالوں کی طرح حیرت سمائی ہے۔ زندگی کے پاس بیچنے کو حسن و رعنائی ہے، موسیقی طلائی ہالے کی طرح، بارش میں رچی صنوبر کے پیڑوں کی مہک، آنکھیں جو تمہیں چاہتی ہیں، بانہیں جو تمہیں تھامتی ہیں، اور تمہاری روح کی ساکن مسرت، افکارِ مقدس جو شب میں ستارہ ہیں۔ تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے، حسن و رعنائی پر لٹا دو ، اسے خرید لو اور کبھی بھی دام نہ شمار کرو امن کی ایک اجلی گنگناتی گھڑی کی خاطر سال ہا سال کے جھگڑے بھلا دو اور سرور کی ایک سانس کے لئے جو بچ رہا ہے جو بچ سکے گا سب خراج دے ڈالو ۔ Original Text:   Barter BY SARA TEASDALE Life has loveliness to sell, All beautiful and splendid things, Blue waves whitened on a cliff, Soaring fire that sways and sings, And children's faces ...

نظم : خلوت ، شاعرہ : ایلا ویلر ول کاکس (امریکہ)

Image
  نظم : خلوت شاعرہ : ایلا ویلر ول کاکس (امریکہ) مترجم : رومانیہ نور (ملتان)   ہنسو تو دنیا تمہارے ساتھ قہقہے لگاتی ہے روؤ تو تم تنہا ہی اشک بہاتے ہو کہ افسردہ بوڑھی زمین کو بھی مسرت ادھار لینی پڑتی ہے جب کہ آزار کے اس کے اپنے ہی انبار ہیں . گاؤ تو کوہساروں کی ندا تال ملاتی ہے آہ بھرو تو وہ خلا میں کہیں کھو جاتی ہے بازگشت بھی صدائےطرب کی پابند ہے , مگر پروا کے بولوں سے دامن چھڑاتی ہے۔ مسرور ہو تو لوگ تمھیں ڈھونڈ نکالیں گے مغموم ہو تو رخ موڑ لیتے ہیں تمھیں چھوڑ دیتے ہیں وہ تمہارے نشاط کا پیمانہ بھرا چاہتے ہیں مگر تمہارے رنج انہیں درکار نہیں۔ شاد رہو تو تمہارے دوست بے شمار ہیں اداس رہو تو دامن خالی رہ جائے کوئی نہیں جو تمہارے امرت کو ٹھکرائے مگر زہر زندگانی کا تنہا ہی پینا پڑتا ہے۔ ضیافت کرو تو بیکراں ہجوم ہے فاقہ زد ہو تو پرسان حال کون ہے . یہ دستگیرِ زندگی اسی کے ، جو بامراد و صاحب عطا ہے مگر ہر شخص لمحۂ اجل سے دست کَشا ہے۔ عشرت کے ایوانوں میں ایک گوشہ مختص ہے ایک بڑی اور شاہانہ قطار کے لیے درد کی تنگ راہداریوں سے گزر کر ایک...

نظم : دیوانی کا نغمۂ محبت ، شاعرہ : سلویا پلاتھ (امریکہ)

Image
  نظم : دیوانی کا نغمۂ محبت شاعرہ : سلویا پلاتھ (امریکہ) مترجم : رومانیہ نور ( ملتان)   میں اپنی آنکھیں موندتی ہوں اور سارا جہان موت کی آغوش میں سو جاتا ہے؛ میں اپنی آنکھیں کھولتی ہوں تو ازسرِ نو آثار زندگی بیدار ہوتے ہیں۔ ( مجھے ایسا لگتا ہے تم میرے تخیل کا کوئی پیکر ہو۔ ) نیلگوں اور آتشیں ستارے جوڑوں میں رقص کرتے ہیں , اور پھر ستم گر تاریکی سرعت سے چھا جاتی ہے : میں اپنی آنکھیں موندتی ہوں اور سارا جہان موت کی آغوش میں سو جاتا ہے۔ میں نے سپنا دیکھا کہ تم نے اپنی محبت سے مجھے مسحور کر دیا اور میرے لیے عاشقوں کے گیت گائے، دیوانوں کی طرح میرے بوسے لیے۔ ( مجھے ایسا لگتا ہے تم میرے تخیل کا کوئی پیکر ہو۔ ) خدا بھی عرش سے اتر آیا، جہنم کی آگ سرد پڑ گئی : شیطان و مَلَک کے کارندے روانہ ہو ئے : میں اپنی آنکھیں موندتی ہوں اور سارا جہان موت کی آغوش میں سو جاتا ہے . میری خام خیالی ہی رہی کہ تم حسبِ وعدہ لوٹ آؤگے مگر عمر ڈھلتی جاتی ہے اور تمہارا نام بھول جاتی ہوں۔ ( مجھے ایسا لگتا ہے تم میرے تخیل کا کوئی پیکر ہو۔ ) * تمہاری بجائے میں نے کسی طوفان...