نظم : جنگلی چیزوں کا امن، شاعر : وینڈل بیری (امریکہ)
جنگلی چیزوں کا امن شاعر : وینڈل بیری (امریکہ) مترجم : رومانیہ نور (ملتان) جب میرے اندر دنیا کے لیے مایوسی بڑھ جاتی ہے۔ اور میں رات کو ہلکی سی آہٹ پرجاگ جاتا ہوں۔ اس اندیشے سے کہ میری اور میرے بچوں کی زندگیوں کا مستقبل کیا ہو گا، میں (آغوشِ فطرت میں) جا کر لیٹ جاتا ہوں جہاں راج ہنس اپنے جمال میں مگن پانی پر محوِ استراحت ہوتا ہے اور جسیم بگلا مصروفِ طعام ہوتا ہے۔ میں جنگلی چیزوں کی امان میں آجاتا ہوں۔ جو اپنی حیات پر پیشگی غم کا بوجھ نہیں لادتے میں ٹھہرے ہوئے پانی کے سامنے موجود ہوتا ہوں۔ اور میں سرِ آسمان دن کو ماند پڑے ستاروں کو محسوس کرتا ہوں۔ جو اپنی ضیا کے ہمراہ چمکنے کے منتظر ہیں . میں دنیا کی زیبائی میں چند گھڑیاں آرام کرتا ہوں، اور ( تفکرات ) سے آزاد ہو جاتا ہوں۔ Original Text: The Peace of Wild Things By Wendell Berry (America) When despair for the world grows in me and I wake in the night at the least sound in fear ...